You are not logged in or registered. Please login or register to use the full functionality of this board...

[-]
Shout: -
Options
Loading...
Smilies
Popup Shoutbox

Thread Rating:
  • 1 Vote(s) - 5 Average
  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5
تنہائی
***


سڑک کنارے بیٹھی تھی کوئی جوگی تھی یا روگی تھی
کیا جوگ سجائے بیٹھی تھی کیا روگ لگائے بیٹھی تھی

تھی چہرے پر زردی چھائی اور نیناں اشک بہاتے تھے
تھے گیسو بکھرے بکھرے سےجو دوشِ ھوا لہراتے تھے

تھی اپنے آپ سےکچھ کہتی اور خود سن کے ھنس دیتی تھی
کوئی غم کی ماری لگتی تھی کوئی دکھیاری لگتی تھی

اس جوگن کو جب دیکھتے تھےھر بار یہی ھم سوچتے تھے
کیا روگ لگا ھے روگی کو کس شے کا سوگ ھے جوگی کو؟

اک دن اس نے کوچ کیا اور سارے دھندے چھوڑ گئی
وہ جوگی، روگی، سیلانی سارے ھی پھندے توڑ گئی

پھر اپنا قصہ شروع ھوا اک مورت دل میں آ بیٹھی !



وہ چلے تو دینا ساتھ چلے جو رکے تو عالم تھم جائے
ھو ساتھ تو دھڑکن تیز چلے دوری سے سانس یہ جم جائے

کچھ قسمیں،وعدے، قول ھوئے انمول تھے وہ، بِن مول ھوئے
کچھ قیمت تھی تو اپنی جاں تھا ھوش کسے؟ دھیان کہاں؟

تھے سونے جیسے دن سارے راتیں سب چاندی کی تھیں
امبر کا رنگ سنہرا تھا جہاں قوس و قزاح کا پہرا تھا

اک دن یونہی بیٹھے بیٹھے کچھ بحث ھوئی، تکرار ھوا
وہ چل دی روٹھ کے بس یونہی میں سوچ میں تھا بیکار ھوا

کچھ دن گذرے پھر ہفتہ بھی، نا دیکھا، نا ملاقات ھی کی
ناراض تھی وہ، ناراض رھی، نا فون پہ اس نے بات ھی کی

جب ملی تو صاف ھی کہہ ڈالا "وہ بچپن تھا نادانی تھی"
کیا دل سے لگائے بیٹھے ھو"وہ سب کچھ ایک کہانی تھی"

تھی دل پہ بیتی کیا اس پل؟ تم لوگ سمجھ نہ پاو گے
جب تم پر یہ سب بیتے گا یہ روگ سمجھ ھی جاو گے

سب یاد دلائے عہدِ وفا وہ قسمیں، قول، قرار سبھی
سکھ، دکھ میں ساتھ نبھانے کے وہ وعدے اور اقرار سبھی

وہ ھنس کے بولی، پاگل ھو؟کبھی وعدے پورے ھوتے ھیں؟
کیا اتنا بھی معلوم نھیں؟ یہ عہد ادھورے ھوتے ھیں۔

تمھیں علم نہیں؟ نادان ھو تم؟ کبھی قسم نباہی جاتی ھے؟
کس دیس کے رھنے والے ھو؟ یہ قسم تو کھائی جاتی ھے۔

وہ ھنس کے چلدی راہ اپنی اور صبر کا دامن چھوٹ گیا
آنکھوں سے جھیلیں بہہ نکلیں اور ضبط بھی ھم سے روٹھ گیا

میں آج وہاں پر بیٹھا ھوں جس جگہ پہ کل وہ جوگن تھی
یہ آج سمجھ میں آیا ھے کس چیز کی آخر روگی تھی !


[/quote]
[Image: zl91sp.jpg]
Reply
***
زندگی یوں ہوئی بسر تنہا
قافلہ ساتھ اور سفر تنہا

اپنے سائے سے چونک جاتے ہیں
عمر گزری ہے اس قدر تنہا

ڈوبنے والے پار جا اترے
نقش پا اپنے چھوڑ کر تنہا

ہم نے دروازے تک تو دیکھا تھا
پھر نہ جانے گئے کدھر تنہا


[Image: zl91sp.jpg]
Reply
Ooops_cut sady*
[Image: Joker.jpg]
Reply
***

خلش, گھٹن ہے یہ تشنگی ہے
ہمیں تھا دھوکہ یہ زندگی ہے

پلک جھپکتے خوشی ندارد
تو غم نہ کوئی بھی عارضی ہے

ہیں سب رویے بجھے بجھے سے
نہ دوست اب ہے نہ دشمنی ہے

نہ کوئی سنتا نہ کہہ سکے ہم
ہے شور اتنا کہ خامشی ہے

جلایا امید نے دیا جب
تو سب سے پہلے یہ خود جلی ہے

تلاش میں تھا میں منزلوں کی
سفر سفر میں گزر گئی ہے

لکھا گیا تھا حیات جس کو
یہ رفتہ رفتہ سی خود کشی ہے

کبھی محبت تھی حرفِ آخر
تو اب تعلق یہ سرسری ہے

میں جب بھی نکلا تری گلی سے
تو سامنے پھر تری گلی ہے

یہ سب مری خوش گمانیاں ہیں
یہ سب محبت کی سادگی ہے

نہ جانے کب سے یوں جی رہا ہوں
کہ سانس جیسے یہ آخری ہے

میں جب سے سمجھا ہوں تجھ کو ابرک
یہ نیند تب سے اڑی اڑی ہے


[Image: zl91sp.jpg]
Reply


‏جب سے لگا ہے تنہائی کا روگ مجھے
اِک اِک کر کے چھوڑ گئے سب لوگ مجھے
بُجھتا سُورج مِیری آنکھیں چھین گیا
کالی رات نے پہنایا ہے سوگ مجھے
درد کا جنگل اَٹا ہوا ہے سانپوں سے
دل کا جوگی روز سکھائےجوگ مُجھے
کل شب اُجلے چہروں کی اِک محفل میں
یاد آئے ہیں محسنؔ کیا کیا لوگ مجھے
محسن نقوی
[Image: zl91sp.jpg]
Reply

اشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو
اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو

یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد
تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو

لائی ہے اب اڑا کے گئے موسموں کی باس
برکھا کی رت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو

پھرتے ہیں مثل موج ہوا شہر شہر میں
آوارگی کی لہر ہے اور ہم ہیں دوستو

شام الم ڈھلی تو چلی درد کی ہوا
راتوں کی پچھلا پہر ہے اور ہم ہیں دوستو

آنکھوں میں اڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو

منیر نیازی
[Image: zl91sp.jpg]
Reply


بے ججھک ہر جگہ اظہارِ تمنّا کر کے
دیکھتا رہتا ہوں میں خود کو تماشا کر کے

مجھ سے دریا صفت انسان کو صحرا کر کے
عشق نے بوند نہ بخشی مجھے پیاسا کر کے

کوئی آیا تھا مرے درد کا درماں کرنے
اور پھر چھوڑ گیا اس میں اضافہ کر کے

ہائے محرومئِ قسمت کہ ملاقات کے دن
میں قسم توڑ کے آیا تھا وہ توبہ کر کے

دوستوں سے بھی جدا کر دیا خود بھی نہ ملا
اک ستم کیش نے چھوڑا مجھے تنہا کر کے

ہم سے اک جرم کا بھی بوجھ اٹھایا نہ گیا
لوگ خوش باش جیے جاتے ہیں کیا کیا کر کے

منتظر حشر تلک رہتے ہم اُس کے ماجد
وہ گیا ہوتا جو لوٹ آنے کا وعدہ کر کے

مجھ کو لوٹائی گئی زندگی ماجد لیکن
میری مرضی کے شب و روز کو منہا کر کے

ڈاکٹر ماجد محمود ماجد


[Image: zl91sp.jpg]
Reply




Users browsing this thread: 1 Guest(s)