You are not logged in or registered. Please login or register to use the full functionality of this board...

[-]
Shout: -
Options
Loading...
Smilies
Popup Shoutbox

Thread Rating:
  • 1 Vote(s) - 5 Average
  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5
تنہائی
(01-07-2019, 09:22 PM)Sufi G Wrote:



یہ آئنہ کوئی حیرت کدہ سا ہے جس میں
اک اجنبی مجھے مجھ سا دکھائی دیتا ہے

نہیں کسی بھی پرندے کا گھونسلا اس پر
یہ پیڑ اس لیے تنہا دکھائی دیتا ہے

قدم قدم جو بکھرتا دکھائی دیتا ہے
مرے قبیلے میں رخنہ دکھائی دیتا ہے

فلک نشینی کے اپنے بھی کچھ مسائل ہیں
زمیں کا دکھ وہاں چھوٹا دکھائی دیتا ہے

وہاں الگ ہوا کرتا ہے ڈوبنے کا دکھ
جہاں سے صاف کنارہ دکھائی دیتا ہے

رہین فاصلہ ہوتی ہے خوشنمائی بھی
وہ تل قریب سے دھبہ دکھائی دیتا ہے

نہیں ہے سامنے کچھ بھی مرے پس دیوار
میں کیا کروں مجھے اتنا دکھائی دیتا ہے

کھلی فضائیں اسے کھینچتی ہیں اپنی طرف
مجھے یہ دل بھی پرندہ دکھائی دیتا ہے

بدل کے دیکھے ہیں کتنے ہی زاویے میں نے
نیا نہیں جو پرانا دکھائی دیتا ہے

تجھے پتہ ہے کہ دیوار پر بنا سایہ
اکیلے شخص کو کیسا دکھائی دیتا ہے

ہجوم اتنا ہے آنکھوں میں اب کوئی بھی خواب
دکھائی دے تو ادھورا دکھائی دیتا ہے

عجیب عارضہ درپیش ہے بصارت کا
نہ کم دکھے تو زیادہ دکھائی دیتا ہے

فضا کثیف ہے اتنی گھٹن ہے چاروں طرف
کہ صوتی لہروں پہ نوحہ دکھائی دیتا ہے

شعیب بخاری

[Image: zl91sp.jpg]
Reply


اک مسلسل سے امتحان میں ہوں
جب سے رب میں ترے جہان میں ہوں

صرف اتنا سا ہے قصور مرا
میں نہیں وہ ہوں جس گمان میں ہوں

کون پہنچا ہے آسمانوں تک
ایک ضدی سی بس اڑان میں ہوں

جس خطا نے زمین پر پٹخا
ڈھیٹ ایسا، اسی دھیان میں ہوں

اپنے قصے میں بھی یوں لگتا ہے
می‍ں کسی اور داستان میں ہوں

در و دیوار بھی نہیں سنتے
اتنا تنہا میں اس مکان میں ہوں

زندگی اک لحافِ ململ ہے
سرد موسم ہے کھینچ تان میں ہوں

تولتی ہیں مجھے یوں سب نظریں
جیسے میں جنس ہوں دکان میں ہوں

کوئی سمجھا نہ میری بات ابرک
میں کسی اور ہی زبان میں ہوں

................................ ... اتباف ابرک

[Image: zl91sp.jpg]
Reply
(03-17-2019, 08:59 AM)Sufi G Wrote:


ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں،
تہمتیں ـــــ بدنامیاں ــــــ رسوائیاں.

زندگی شاید اسی کا نام ہے،
دوریاں ــــــ مجبوریاں ـــــــ تنہائیاں.

کیا زمانے میں یوںہی کٹتی ہے رات،
کروٹیں ـــــــ بے تابیاں ـــــــ انگڑائیاں.

کیا یہی ہوتی ہے شام انتظار،
آہٹیں ــــ گھبراہٹیں ـــــ پرچھائیاں.

دیدہ و دانستہ ان کے سامنے،
لغزشیں ـــــ ناکامیاں ــــــ پسپائیاں.

رہ گئیں اک طفل مکتب کے حضور،
حکمتیں ـــــ آگاہیاں ـــــــ دانائیاں.

زخم دل کے پھر ہرے کرنے لگیں،
بدلیاں ــــــ برکھا رتیں ـــــــ پروائیاں.

کیفؔ، پیدا کر سمندر کی طرح،
وسعتیں ـــــ خاموشیاں ــــــ گہرائیاں.

کیف بهوپالی

[Image: zl91sp.jpg]
Reply
(04-12-2019, 07:47 AM)Sufi G Wrote:
(03-17-2019, 08:59 AM)Sufi G Wrote:



یہ محلوں ، یہ تختوں ، یہ تاجوں کی دنیا
یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا
یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے ؟

ہر اک جسم گھائل ، ہر اک روح پیاسی
نگاہوں میں الجھن ، دلوں میں اداسی
یہ دنیا ہے یا عالمِ بد حواسی
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے ؟

یہاں اک کھلونا ہے انساں کی ہستی
یہ بستی ہے مردہ پرستوں کی بستی
یہاں پر تو ہے جیون سے موت سستی
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے ؟

یہ دنیا جہاں آدمی کچھ نہیں ہے
وفا کچھ نہیں ، دوستی کچھ نہیں ہے
جہاں پیار کی قدر ہی کچھ نہیں ہے
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے ؟

جلا دو اسے پھونک ڈالو یہ دنیا
میرے سامنے سے ہٹا لو یہ دنیا
تمھاری ہے تم ہی سنبھالو یہ دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے ؟

ساحر لدھیانوی

[Image: zl91sp.jpg]
Reply

خانہ بدوش

نا مُشت میں میری مُشتری، نا پاؤں میں نیلوفر
نا زُہرہ میری جیب میں، نا ہُما اُڑے اوپر
نا دھڑکا ہے سرطان کا، نا زُحل کا کوی ڈر
نا کوئی میرا دیس ہے نا کوئی میرا گھر

نا ماتھے چمکے چندرما، نا تارا چھنگلی پر
پر دیکھ گلوب ہے گھومتا، میری میلی اُنگلی پر
میں آپ ہوں اپنا زایچہ، میں آپ ستارہ ہوں
میں آپ سمندر ذات کا، میں آپ کنارہ ہوں

مرا محد کجاوہ اُنٹ کا، مری لوری بانگِ درا
جھنکار جو چھڑکیں گھنٹیاں، تو رستی جائے ہوا

ہے اُوپر گولا ڈولتا، چمکیلے سورج کا
اور اُسکے اُوپر آسماں، ہے گیلا نیل بھرا
مری بھور کٹی ہے کوچ میں تو سانجھ پڑاوؑ میں
دن ڈھور سِموں کی ٹاپ میں تو رین الاؤ میں

ہے وقت چھنکتی چال میں، پگ لمحوں کی پایؑل
ہے چولا چھاؤں دھوپ کا، سر سَت رنگی آنچل
مرا مکہ چمکے آنکھ میں بہے دل میں گنگا جل
میں وایو، اگنی، سوریہ، میں بے ساحل جل تھل

میری کالی آنکھ دراوڑی، متجسس اور حیران
مرے نیند میں ہلتے پاؤں ہیں، میرے جذبے کی پہچان
اِک مشعل راہ نورد ہےِ جو جلتی رہتی ہے
مرے ہاتھ پہ ایک لکیر ہے، جو چلتی رہتی ہے

او دبی دبی سرگوشیو! لو سنو دراوڑو دھاڑ
ہم آسمان کا پارچہ، اک پھونک سے ڈالیں پھاڑ
ہم کالے کوس اُجال دیں، سنگلاخ پہاڑ پچھاڑ
ہم چلیں جو پورے پاؤں سے، تو دھرتی کھائے دراڑ

ہر اِک نشیب فراز کو، ہم ٹھوکر دیتے ہیں
جو خواب خیال گمان ہے، ہم وہ کر دیتے ہیں
انگشت بدنداں راستے، دل پاش کلیجے شق
تن سم ضربوں سے نیلگوں، اور چہرہ چہرہ فق

ہوں شیشہ شیشہ دھاریاں، یا ریگ کدے لق دق
میں اکبرِ اعظم راہ کا، میں منزل کا تغلق
مرا تن ہمزاد الاوؑ میں دربار لگاتا ہے
ہر رستہ جسم سنبھال کے تسلیم کو آتا ہے

او مانگ بھری مری کامنی مرے ساتھ جقانی چکھ
یہ جگ تیری جاگیر ہے تُو کُھل کے پاؤں رکھ
اس ورق ورق سنسار کو، تُو کھول پھرول پرکھ
رہیں سدا یہ دشت نوردیاں، ہے جیون نقش الکھ

آ پاوؑں پہ مٹی باندھ لیں، آ ہوا ہتھیلی پر
آ اسمِ سم سم پھونک، اس جنم پہیلی پر
سنسار سفارت گاہ میں، مرے ڈھوڑ ڈنگر مندوب
ہیں دلدل دشتی راستے، تو تیز ہوا پاروب

ہوں اونچی شرق شمالیاں، یا گہرے غرب جنوب
انہیں ساری سمتیں ایک ہیں انہیں سب راہیں مرغوب
بے جان زمین پہ زندگی کی ٹاپ جو پڑتی ہے
تو سہمے سہمے راستوں کی سانس اُکھڑتی ہے

او دھرتی کھول ہتھیلیاں، میں پاؤں سے کھینچوں ریکھ
مرے کٹے پھٹے پاپوش ہیں، پر نقش نگاری دیکھ
میں کنڈلی ہوں تاریخ کی، میں جنم جنم کا لیکھ
میں بانجھ زمین کا سنبلہ، میں زرد رتوں کا میکھ

اک خیرہ خیرہ روشنی، مری چھاوں میں ہوتی ہے
یہ دنیا جس کا نام ہے مرے پاؤں میں ہوتی ہے
میں سنگ نہیں انسان ہوں، کیوں گھر تعمیر کروں
جب پاؤں لگے ہیں جسم کو، تو کیوں نہ چلوں پھروں

جب عجلت میں ہے زندگی، تو کاہے دھیر دھروں
میں کیسے اینٹیں جوڑ دوں، میں کیوں بنیاد بھروں
اس دھرتی کی بنیاد پر، میں جسم اُٹھاتا ہوں
گھر سایہ بن کر ساتھ ہے، میں جہاں بھی جاتا ہوں

میں پِگمی، بدؔو، نیگرو میں ہوں منگول، افغان
اس صبح بحیرہ روم تھا، اس شام ہوں راجھستان
ہے سڈنی قرب و جوار میں، کبھی پہلو میں ایران
دریاے زرد میں کشتیاں، ڈنیوب میں کبھی پڑان

اک نقش پا رومانیہ، تو اک قفقاز میں ہے
اک سانس ہے مالا بار میں، تو ایک حجاز میں ہے
میں شاعر ساندل بار کا، مری سوچیں خانہ بدوش
جب کرے سلیماں معجزہ، تو دنیا سے روپوش

پی ساوی بری امام کی، تو من موجی مدہوش
کبھی سارا دھارا آیؑینہ، کبھی پورن ماشی جوش
یہ چہرے سورج دار ہیں لشکارا ہوتے ہیں
یہ لوگ جو ہیں بے خانماں، مرا سارا ہوتے ہیں

#ڈاکٹر_وحید_احمد

[Image: zl91sp.jpg]
Reply




Users browsing this thread: 1 Guest(s)