You are not logged in or registered. Please login or register to use the full functionality of this board...

[-]
Shout: -
Options
Loading...
Smilies
Popup Shoutbox

Thread Rating:
  • 1 Vote(s) - 5 Average
  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5
تنہائی


World Poetry Movement-Pakistan Chapter کے مشاعرے میں------------------------

منزل کے انتظار میں مارے گئے ہیں ہم

اک دشتِ بے کنار میں مارے گئے ہیں ہم

پہلے کہانیوں میں تھا مارا گیا ہمیں

اب ایک کارزار میں مارے گئے ہیں ہم


پروانے کی مثال رہی اپنی زندگی

شمع کے اعتبار میں مارے گئے ہیں ہم

دنیا ہمارے خواب کی تعبیر دیکھ لے

الفت کے خارزار میں مارے گئے ہیں ہم


پہلے تو دشمنوں کی سہیں ہم نے نفرتیں

پھر دوستوں کے پیار میں مارے گئے ہیں ہم

مرنے کے کتنے خوب مقامات تھے مگر

شوق وصال یار میں مارے گئے ہیں ہم


تفسیر کائنات کی گرہیں نہ کھل سکیں

سو چوں کے خلفشار میں مارےگئے ہیں ہم

ہارے ہوئے تھے پھر بھی عمر جی رہے تھے ہم

اک جیت کے خمار میں مارے گئے ہیں ہم


ہم کو خزاں رتوں سے عمر کچھ گلہ نھیں

ھنگامہء بہار میں مارے گئے ہیں ہم

با اختیار ھو کے بھی بےاختیار تھے

اپنے ھی اقتدار میں مارے گئے ہیں ہم


جپتے رھے ھیں امن کی آشا کے بول ھم

دشمن کے اعتبار میں مارے گئے ہیں ہم

زھریلے موسموں کے ارادے نہ پڑھ سکے

اُمید برگ و بار میں مارے گئے ہیں ہم


مرکز پذیر ھو کے بھی مرکز گریز تھے

تبدیلیء مدار میں مارے گئے ہیں ہم

شمع - کو مو سم کے وزن پر باندھا گیا ھے -

ڈاکٹر ابرار عمر
[Image: zl91sp.jpg]
Reply




Users browsing this thread: 1 Guest(s)